وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

جو ترے در سے یار پھرتے ہیں
در بدر یوں ہی خوار پھرتے ہیں

ہر چراغ مزار پر قدس
کیسے پروانه وار پھرتے ہیں

اْس گلی کا گدا ہوں میں جس میں
مانگتے تاجدار پھرتے ہیں

پھول کیا دیکھوں میری آنکھوں میں
دشت طیبہ کے خار پھرتے ہیں

لاکھوں قدسی ہیں کام خدمت پر
لاکھوں گرد مزار پھرتے ہیں

کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں

Leave a Reply